Skip to main content

اقبال کی شخصیت کے تشکیلی عناصر

اقبال کی شخصیت کے تشکیلی عناصر لیکچر


 لیکچر نمبر:۳        

اقبال کی شخصیت کے تشکیلی عناصر

مقرر:        پروفیسر ڈاکٹر محمود علی انجم

بتاریخ:۱۶۔اکتوبر ۲۰۲۱ء 

بزم فکر اقبال کے موقر پلیٹ فارم سے شائقین  اقبال کے  لیے ایک سلسلہ [جس کا چند دن پہلے تفصیلی تعارف لکھا گیا تھا تعارف ''بزم فکر اقبال'']

''فکر اقبال کورس'' کے نام سے جاری ہے  ۔اس کا  تیسرا لیکچر مشہور ماہر تعلیم اور ماہر اقبالیات پروفیسر ڈاکٹر محمود علی انجم نے آن لائن گوگل میٹ پہ دیا۔ڈاکٹر صاحب کا انداز مدلل اور  تجزیاتی تھا جس سے اقبال کی شخصیت کے چند مفید مگر چھپے ہوئے پہلو سامنے آئے اس کے ساتھ ہی ان کی شخصیت کی تشکیل سازی میں معاون   عناصر کا بھی  جائزہ پیش کیا گیا ۔

جب بات کی جاتی ہے کسی شخص کی ذات کے متعلق تو سب سے اہمیت کا حامل جو سوال ہوتا ہے وہ ہے شخصیت ؟شخصیت بذات خود کیا ہے؟ ڈاکٹر صاحب ویسے تو ایک ماہر نفسیات ہیں شخصیت کے بارے میں کئی موشگافیاں اور مشرقی و مغربی نفسیات دانوں کی تعریفیں ان کو ازبر ہوں گی لیکن انھوں نے شخصیت کی تعریف کا تعین سب سے بڑی اور مستند کتاب قرآن مجید سے کی۔سورۃالعصر کے حوالے سے انھوں نے شخصیت  کے دو پہلو بیان کیے ۔

اقبال کی شخصیت کے تشکیلی عناصر  میں ڈاکٹر صاحب نے ان کے خاندان ،اساتذہ اور مغربی حکماء کے  عمیق مطالعے کو اہمیت دی لیکن ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ اقبال کا فلسفہ مغربی حکماء کے  خیالات سے مستعار نہیں لیا گیا بلکہ انھوں نے مغربی علوم کی بجائے اپنا راستہ قران و سنت سے ہی اخذ کیا ۔اقبال کے اندر اجتماعی خودی اور خودی کا جو فلسفہ پروان چڑھا ڈاکٹر صاحب  کے مطابق یہ شیخ نور محمد کی ریاضت  و عبادت کا نتیجہ تھا ۔اسی طرح انھوں نے ماں کے روحانی تجربات سےبھی بہت کچھ سیکھا۔شاید اقبال نے اسی لیے کہا تھا کہ:

''ہزار کتب خانے ایک طرف اور باپ کی شخصیت ایک طرف''

دوسرا اہم محرک جو اقبال کے زرخیز ذہن کو میسر آیا تھا وہ ہیں اس کے اساتذہ  ،اقبال خوش قسمت تھے کہ انھیں میر حسن  اور پروفیسر آرنلڈ جیسے اساتذہ میسر آئے  ڈاکٹر صاحب نے ہر دو شخصیات کی علم پسندی اور اقبال کے ساتھ ان کی شفقت کے معاملے کو بڑی تفصیل اور سوانحی واقعات کی مدد سے بیان کیا ۔۔۔۔۔اس کےبعد ڈاکٹر صاحب  نے روحانیت اور مولانا روم سے کسب فیض کے متعلق چند دقیق نکتے بیان کیے جو کہ روحانی تجربے سے لبریز اور غیر رسمی تعلیم کے زمرے میں آ جاتے ہیں  لیکن ان کا ان کی شخصیت اور کلام پہ سب سے گہری چھاپ نظر آتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔

اس کے بعد ڈاکٹر صاحب نے ہر نئی فکر اور جدت کی بنیادیں مغرب کے ہاں تلاش کرنے والے ناقدین کو یہ واضح کیا کہ اقبال نے مغربی مفکرین نے  کا بہت گہرا 

مطالعہ کیا لیکن وہ ان سے اپنا دامن بچا کے رکھتے ہیں چیزوں کو سجھنے کے کئی حوالے ہو سکتے ہی لیکن ان کی فکر قرآن وسنت پہ استوار نظر آتی ہے ۔


لیکچر نمبر :۴

اقبال کا ذہنی و فکری ارتقاء
اقبال کا ذہنی و فکری ارتقاء



                             اقبال کا ذہنی و فکری ارتقاء

مقرر:ڈاکٹر وحیدالزماں                                                               ۱۷۔اکتوبر ۲۰۲۱ء

ڈاکٹر وحیدالزماں نے اقبال کی فکر کا زمانہ سمجھانے کے لیے شعر :

قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے

دہر میں عشق محمد  سے  اجالا  کر دے

بیان کیا اور پھر دہر کا مطلب واضح کرتے ہوئے کہا کہ یہاں سے مراد زمانہ ہے جو نہ ختم ہونے والا [Endless]ہے دہر زندگی ہے  اور زندگی دہر ہے ۔جب اقبال نے زمانے کے لیے کہی گئی حدیث برگساں سے کہی تھی تو وہ حیران رہ گیا تھا ۔۔۔۔داکٹر صاحب کے بقول اقبال کی فکر کا زمانہ بھی زرتشتی  عہد سے  بھی پہلے کا  ہے وہ بیسویں صدی کا ذہن نہیں ہے بلکہ اپنے وقت سے پہلے اور بعد کے وقت سے جڑا ہوا ہے  اقبال کی فکر کا جن عوامل کے زیر سایہ ارتقاء ہوا ہے ڈاکٹر صاحب کے مطابق مندرجہ ذیل ہیں:

·        قرآن و  حدیث سب سے مقدم اور اہم  عامل کے طور پہ آتے ہیں

·        زرتشتی عہد کا فارسی  ادب

·        پری  اسلامک عربی ادب

·        اسلامک ادب اور تاریخ

·        اسلام کے بعد رومی جیسا استاد  اور بو علی  قلندر کے فرمودات کے اثرات

·        اردو ادب اور  خاص طو ر پہ غالب کے اثرات

·        استاد آرنلڈ اور میر حسن جیسی علم دوست شخصیات  سے تلمذ

·        گھر کا روحانی ماحول اور شہر لاہور میں مذاہب کا اشتراک 

رپورٹ:قیصر شہزاد ساقی      

Comments

Popular posts from this blog

حسن تعلیل||صنعت حسن تعلیل کی مثالیں||اردو کی اہم صنعتیں||urdu ki mashhoor sanatain

  حسن تعلیل اردو لیکچرر کے لیے معاون مواد پڑھنے کے لیے یہاں دبائیں تعلیل عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہے علت یا  وجہ بیان کرنا یا توجیح پیش کرنا ‘’حسن تعلیل شعری صنعت ہے جس میں شاعر کسی واقعے کی اصل منطقی ،جغرافیائی یا سائنسی  وجہ کو نظر انداز کر کے  تخیلاتی جذباتی اور عین شاعرانہ وجہ بیان کرتا ہے ‘’     مثال بے سبب زلزلہ عالم میں نہیں آتا ہے کوئی   بے تاب تہ خاک   تڑپتا      ہو    گا زلزلے کی سائنسی وجہ تو زیر زمیں پلیٹس کے اندر تبدیلی یا ٹکراو کو سمجھا جاتا ہے لیکن  شاعر نے تخیلاتی سطح پہ اس کی شاعرانہ وجہ کسی عاشق کا زیر زمیں تڑپنا بتائی ہے   سب کہاں ؟ کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں غالب نے اس شعر  گل و لالہ کا نمایاں ہونے کی وجہ زیر زمیں پنہاں ہونے والے خوبصورت چہروں کو بیان کیا ہے  امید ہے آپ حسن تعلیل سے آگاہ ہو چکے ہیں مزید مثالوں اور مشق کے لیے یہاں دبائیں

کہانی از ڈاکٹر سعادت سعید

 کہانی پر کیف رات اپنے تبسم میں غم لیے  پسماندگان زیست پر نوحہ کناں رہی  میں حزن بے کراں تھا یا سیل غم حیات  ہر پل مری نگاہ میں اک روشنی رہی!  وہ روشنی کہ جس سے مرااسم زندہ تھا  وہ روشنی بسر کے کسی سے مری رہی! عہد وفا سے ناتہ مراٹوٹ بھی چکا لیکن وہ رفتگی ہے کہ یوں سوچتا ہوں میں  میری کہانی اس کو اگر یاد بھی نہ ہو میری پرستشوں کی نہیں انتہا کوئی  اس کے سلگتے سانس مری دھڑکنوں میں ہیں ! جب رات بھیگنے لگی میں سوگوار تھا!   تب چاندنی نے جھوم کے مجھ سے کہا چلو!  ان بستیوں میں چلتی ہواؤں کے درمیان  جن کا ہر ایک کو چہ لب بام حشر ہے  جن کے ہر ایک خیمے یہ لکھا ہے میرا نام !  نا آشنا ہوائیں ہیں برق نگاہ حسن  ان کی عنائتوں سے ہرے پیڑ جل گئے  ندی کا بہتا پانی بھی  شعلہ نفس ہوا! جی جگمگا اٹھا تھا، جگر جھلملا اٹھا  میرے گماں میں کوند گئی برق شبنمی اس کا جمال اپنی بقا کا بھرم لیے ہر پل مرے خیال سے بچتا رہا کہ میں ارض بہار عشق کا مالک تھا، پراسے محکوم ہو کے مجھ سے محبت نہ ہوسکی ! میرے لہو سے کرب کی چنگاریاں اٹھیں ...

لطائف اقبال/اردو لطیفے||اردو طنزو مزاح||Allama Muhammad Iqabal

لطائف اقبال علامہ اقبال۔۔۔۔۔ساقی نامہ   مغرب کے اہل سیاست اقبال کی نظر میں کیمرج کے زمانہ میں چند ہم عصروں سے مذہب پر بحث چھڑ گئی۔ایک صاحب پوچھنے لگے مسٹر اقبال یہ کیا بات ہے کہ جتنے پیغمبر اور بانیان مذہب دنیا میں آئے وہ بلا استثنا ایشیا میں مبعوث ہوئے۔یورپ میں ایک بھی نبی مبعوث نہیں ہوا؟ ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا۔بھئی شروع شروع میں اللہ میاں اور شیطان نے اپنا اپنا پیترا جما لیا۔اللہ میاں نے ایشیا کو پسند کیا اور شیطان نے یورپ کو۔۔۔اس لیے پیغمبر جو اللہ میاں کی طرف سے آئے ہیں ایشیا میں مبعوث ہوئے ۔وہ صاحب بول اٹھے تو پھر شیطان کے پیغمبر کیا ہوئے ۔انھوں نے جواب دیا:''یہ تمھارے میکائیولی اور مشہور اہل سیاست اس کے رسول ہیں ۔'' [اس پر خوب قہقہہ پڑا ] دنیا میں جنت دوسری گول میز کانفرنس کے زمانے میں انگلینڈ کی مشہور سیاح خاتون مس روزیتا فوریس نے ڈاکٹر صاحب سے ملاقات  کا شوق ظاہر کیا۔چناں چہ مس صاحبہ نے انھیں اپنے ہاں مدعو کیا۔یہ خاتون شمالی افریقہ اور  اسلامی ممالک میں بہت زیادہ پھری تھیں اور ان پراس سیاحت کا بہت اچھا اثر پڑا تھا۔ڈاکٹر صاحب کے خیال میں ان کا محل جو لندن م...